اردو پریس نے کیا دیکھا، کیا چھپایا اور کیا سوال نہیں پوچھا؟
جی۔ میں نے تازہ دستیاب اردو اخبارات اور مسلم میڈیا کی رپورٹنگ کو الگ سے دیکھا ہے۔ ایک اہم نتیجہ یہ سامنے آتا ہے: ابھی تک کسی بڑے اردو مسلم اخبار نے مکمل دستاویزی انداز میں یہ ثابت نہیں کیا کہ موہن بھاگوت کا نیویارک والا “مسلمانوں کو نکالنے والا ہندو نہیں” بیان محض RSS کا ڈھونگ ہے۔ البتہ چند مسلم/اردو ذرائع نے اس بیان کو RSS کی سابقہ سیاست، مذہبی آزادی کے تنازع اور “بات بیرونِ ملک، عمل ہندوستان میں” کے سوال کے ساتھ جوڑا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس میں ایک تحقیقی مضمون بہت مؤثر ہو سکتا ہے۔
موہن بھاگوت کا میڈیسن اسکوائر گارڈن خطاب
“جو مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنا چاہے وہ سچا ہندو نہیں” — مفاہمت کی نئی صبح یا RSS کا عالمی امیج میک اوور؟
اردو پریس نے کیا دیکھا، کیا چھپایا اور کیا سوال نہیں پوچھا؟ – By Ahmad Sohail Siddiqui


29 اگست 2026 کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں RSS سربراہ موہن بھاگوت نے جس لہجے میں ہندو مسلم تعلقات، ہندوستانی تکثیریت اور انسانی وحدت کی بات کی، وہ بلاشبہ RSS کے عالمی امیج کے لیے ایک اہم لمحہ تھا۔
ان کا سب سے نمایاں جملہ تھا کہ:
> اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تو وہ ہندو نہیں رہ سکتا۔
یہی جملہ ہندوستانی اور اردو میڈیا کی سرخی بن گیا۔ Times of India نے بھی اسی نکتے کو مرکزی سرخی بنایا، جبکہ Aaj Tak نے رپورٹ کیا کہ بھاگوت نے مختلف مذاہب کو ایک ہی آخری سچائی تک پہنچنے والے مختلف راستے قرار دیا۔
لیکن اصل صحافتی سوال یہ نہیں ہے کہ بھاگوت نے کیا کہا؟
اصل سوال یہ ہے:
کیا RSS کے ماضی، نظریے اور عملی سیاست کو دیکھتے ہوئے اس بیان کو صرف اس کے الفاظ کی بنیاد پر قبول کرلیا جائے؟
اور یہی وہ مقام ہے جہاں اردو مسلم پریس کی رپورٹنگ ابھی تک مکمل تحقیقی چھان بین تک نہیں پہنچ سکی۔
—
1. اردو مسلم پریس کی پہلی تصویر: بیان کو سرخی، پس منظر کو ثانوی حیثیت
ہندوستانی اردو اخبار انقلاب نے بھاگوت کے خطاب کو نمایاں طور پر شائع کیا:
“نیویارک: مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کا سوچنے والا ہندو نہیں رہ سکتا: موہن بھاگوت”
رپورٹ میں مذہبی ہم آہنگی، انسانی وحدت، ہندوستان کی تکثیری شناخت اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں کی شرکت کا ذکر کیا گیا۔
یہ رپورٹ اہم ہے، مگر یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا صرف بھاگوت کا بیان نقل کرنا کافی ہے؟
اگر کوئی RSS سربراہ امریکہ میں یہ کہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنا ہندو نظریہ نہیں ہے تو صحافی کو اگلا سوال بھی پوچھنا چاہیے:
RSS کے تاریخی نظریاتی لٹریچر میں مسلمانوں کے مقام کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟
RSS کی موجودہ سیاسی وابستگی BJP کے ساتھ کیا ہے؟
کیا ہندوستان میں مسلمانوں کے بارے میں یہی معیار عملی طور پر بھی نافذ ہے؟
کیا RSS یا اس کے وابستہ گروہوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کے معاملات میں یہی اصول اختیار کیا ہے؟
یہ سوالات ابھی اردو رپورٹنگ میں اتنی شدت سے سامنے نہیں آئے جتنی شدت سے سامنے آنا چاہیے تھا۔
—
2. لیکن “انقلاب” نے ایک دوسرا دروازہ بھی کھولا
انقلاب نے صرف خطاب نہیں چھاپا بلکہ اس سے پہلے اور بعد کے تنازع کو بھی رپورٹ کیا۔
اس نے بھاگوت کے نیویارک پروگرام کی مخالفت، میئر زہران ممدانی کے اعتراض، امریکی مذہبی آزادی کے اداروں کی تنقید اور RSS کے خلاف احتجاج کی خبریں بھی شائع کیں۔
اس سے ایک مختلف تصویر بنتی ہے:
ایک طرف “Universal Oneness”
اور دوسری طرف:
RSS کے خلاف مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے سوالات۔
یہی تضاد اس پوری کہانی کا سب سے اہم تحقیقی پہلو ہے۔
—
3. پاکستان کے اردو پریس کا زاویہ
پاکستانی اردو میڈیا میں اس واقعے کی جو نمایاں رپورٹنگ دستیاب ہے، اس میں ایکسپریس نے پروگرام سے پہلے زہران ممدانی کے اعتراض کو نمایاں کیا۔
اس کی سرخی تھی:
“نیویارک کے میئر ممدانی کا انتہا پسند ہندو رہنما کی تقریب کی مخالفت کا اعلان”
رپورٹ نے بھاگوت کو RSS کا سربراہ، RSS کو BJP کے نظریاتی پس منظر سے وابستہ تنظیم اور پروگرام کو “Universal Oneness Celebration” کے طور پر بیان کیا۔ ساتھ ہی RSS کا موقف بھی شامل کیا کہ وہ خود کو ثقافتی و تہذیبی تحریک سمجھتی ہے اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
یہاں پاکستانی اردو پریس کا زاویہ ہندوستانی اردو پریس سے قدرے مختلف نظر آتا ہے:
خطاب کے خوبصورت الفاظ سے پہلے RSS کا سیاسی و نظریاتی پس منظر۔
لیکن پھر بھی سوال باقی ہے:
کیا پاکستانی اردو اخبار نے بھاگوت کے خطاب کے بعد اس دعوے کی تاریخی fact-checking کی؟
ابھی دستیاب رپورٹنگ کی بنیاد پر جواب نہیں ہے — کم از کم اس سطح پر نہیں جس کی ایک مکمل تحقیقی اسٹوری میں ضرورت ہے۔
—
4. “ملت ٹائمز” نے اہم پس منظر ضرور اٹھایا
ہندوستانی مسلم میڈیا کے ملت ٹائمز نے بھاگوت کے امریکہ دورے سے قبل امریکی مذہبی آزادی کمیشن اور سکھ تنظیموں کی جانب سے RSS کے خلاف پابندیوں کے مطالبے کو نمایاں کیا۔
رپورٹ میں RSS پر مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں سمیت مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیاز اور ایذا رسانی کو فروغ دینے والی سرگرمیوں کے الزامات کا ذکر کیا گیا، جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ الزامات ہیں۔
یہ رپورٹ اس لحاظ سے زیادہ تحقیقی بنیاد فراہم کرتی ہے کیونکہ یہاں RSS کے “Universal Oneness” پیغام کو اس کے مخالفین کے الزامات کے ساتھ ایک ہی فریم میں رکھا گیا۔
—
5.انڈیپنڈنٹ اردو: سب سے اہم پس منظ
Independent Urdu نے Reuters کے حوالے سے بھاگوت کے دورے سے قبل امریکی مذہبی آزادی کے تنازع کو رپورٹ کیا۔
رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ RSS نے بیرون ملک دوروں کے ذریعے اس تاثر کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایک ایسی تنظیم ہے جس پر اقلیتوں کے خلاف حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
یہ نکتہ انتہائی اہم ہے۔
کیونکہ اس سے ایک متبادل investigative hypothesis پیدا ہوتی ہے:
> کیا امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کا بھاگوت دورہ صرف RSS کی صد سالہ تقریبات کا حصہ ہے، یا اس کے ساتھ عالمی سطح پر RSS کی ساکھ بہتر بنانے کی حکمت عملی بھی جڑی ہوئی ہے؟
یہ الزام نہیں بلکہ تحقیقی سوال ہے۔
اور اسے دستاویزات سے جانچنا چاہیے۔
—
6. کیا کسی مسلم اخبار نے “RSS کا اصل چہرہ” बेनिकाब کیا؟
میری موجودہ تحقیق کا جواب:
مکمل طور پر نہیں۔
لیکن کچھ اخبارات نے اس کی بنیاد ضرور فراہم کی ہے۔
تین سطحیں نظر آتی ہیں:
پہلی سطح — رپورٹنگ:
“بھاگوت نے مسلمانوں کے حق میں بیان دیا۔”
دوسری سطح — تنقید:
“RSS پر اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت کے الزامات ہیں۔”
تیسری سطح — اصل investigative question:
“کیا RSS واقعی تبدیل ہوئی ہے یا صرف اپنی عالمی تصویر تبدیل کررہی ہے؟”
ابھی اردو مسلم پریس کی اکثریت پہلی دو سطحوں تک محدود نظر آتی ہے۔
تیسری سطح کی مکمل دستاویزی تحقیق ابھی باقی ہے۔
—
7. اور یہی وہ جگہ ہے جہاں اویسی کا ردعمل اہم ہوجاتا ہے
AIMIM صدر اسدالدین اویسی نے بھاگوت کے بیان کو RSS کے “oldest trick” سے تعبیر کیا۔
Times of India کے مطابق اویسی کا الزام تھا کہ RSS عوامی طور پر اتحاد اور شمولیت کی زبان استعمال کرتی ہے، جبکہ اس کے نظریاتی پس منظر میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے بارے میں مختلف تصورات موجود رہے ہیں۔
یہ ایک سیاسی الزام ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔
لیکن صحافتی اعتبار سے یہ بہت اہم سوال ضرور ہے:
کیا RSS کے موجودہ بیانیے اور اس کے تاریخی نظریاتی لٹریچر میں کوئی فرق ہے؟
اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ RSS کے اپنے اصل دستاویزات سے نکالا جانا چاہیے۔
—
8. سب سے خطرناک غلطی: “RSS نے مسلمانوں کو قبول کرلیا”
یہ نتیجہ ابھی نکالنا قبل از وقت ہوگا۔
کیونکہ ایک تنظیم کے سربراہ کا ایک بیان خود بخود اس تنظیم کے پورے نظریاتی و سیاسی ماضی کو ختم نہیں کردیتا۔
اسی طرح یہ نتیجہ بھی خودکار طور پر درست نہیں ہوگا کہ:
“بھاگوت کا بیان جھوٹ ہے۔”
دونوں دعوے evidence مانگتے ہیں۔
صحافت کا کام یہی ہے کہ:
بیان → تاریخ → نظریہ → تنظیم → عمل → نتائج
ان چھوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے۔
—
9. بھاگوت نے خود RSS کو ایک اہم امتحان دے دیا ہ
یہاں ایک عجیب صحافتی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔
بھاگوت نے کہا:
> جو ہندو مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنا چاہتا ہے، وہ ہندو نہیں۔
تو اب مسلمان یہ سوال پوچھنے میں بالکل حق بجانب ہیں:
اگر کوئی RSS/BJP سے وابستہ شخص مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کی بات کرے تو RSS کیا کارروائی کرے گی؟
اگر کسی مسلمان کے خلاف مذہبی نفرت پھیلائی جائے تو کیا RSS اس کے خلاف اسی شدت سے کھڑی ہوگی؟
کیا RSS “Muslims belong to India” کو اپنی باقاعدہ سیاسی و سماجی پالیسی بنائے گی؟
کیا RSS مسلمانوں کے مساوی شہری حقوق کو صرف تہذیبی سطح پر نہیں بلکہ آئینی و سیاسی سطح پر بھی واضح طور پر تسلیم کرے گی؟
اگر جواب ہاں ہے تو نیویارک کا خطاب ایک حقیقی تبدیلی کی علامت بن سکتا ہے۔
اگر جواب نہیں ہے تو ناقدین کے پاس یہ کہنے کی گنجائش رہے گی کہ یہ ایک international image-management exercise تھی۔
—
10. سب سے دلچسپ تضاد: “Universal Oneness” بمقابلہ “Hindu Rashtra”
بھاگوت نے نیویارک میں کہا کہ مختلف مذاہب مختلف راستوں سے ایک ہی سچائی تک پہنچتے ہیں اور انسانیت ایک ہے۔ Aaj Tak کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق انہوں نے 2018 کے مسلم مکالمے کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ مسلمانوں کے ہندوستان میں رہنے کے سوال پر ان کا جواب تھا کہ انہیں نکالنا ہندو فکر نہیں۔ انہوں نے “Samvad” یعنی مکالمے اور “Seva” یعنی خدمت کو RSS کی outreach کا حصہ قرار دیا۔
یہاں ایک سنجیدہ مسلم صحافی کو ایک بنیادی سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
اگر “انسانیت ایک ہے” تو “Hindu Rashtra” میں مسلمان کی آئینی، سیاسی اور قومی حیثیت کیا ہوگی؟
یہ سوال بھاگوت کے پورے فلسفے کو سمجھنے کی کنجی ہوسکتا ہے۔
—
11. صرف اویسی نہیں — کپل سبل کا سوال بھی اہم ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی سوال صرف مسلم سیاست دان نہیں اٹھا رہے۔
کپل سبل نے بھاگوت کے خطاب پر تبصرہ کیا:
“بیرونِ ملک سمجھداری کی باتیں، ملک میں خاموشی”
اردو انقلاب نے اس ردعمل کو نمایاں کیا اور بنیادی سوال یہی بتایا کہ اگر امریکہ میں تکثیریت اور مذہبی رواداری کی بات کی جارہی ہے تو ہندوستان میں بھی اس پر عمل کیوں نہ ہو؟
یعنی تنقید کا اصل نکتہ بھاگوت کے الفاظ نہیں بلکہ:
Words versus deeds
ہے۔
—
12. کیا مسلم پریس نے RSS کے “امیج میک اوور” کو پہچانا؟
جزوی طور پر۔
Economic Times نے خود بھاگوت کی تقریر کو “conciliatory, reassuring RSS to global audience” کے طور پر بیان کیا — یعنی عالمی سامعین کے سامنے ایک مفاہمت پسند اور اطمینان بخش RSS کی تصویر۔
یہ تعبیر مسلم میڈیا کے لیے ایک بہت اہم تحقیقی lead ہے۔
اگر RSS کا مقصد واقعی صرف روحانی و تہذیبی مکالمہ ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔
لیکن اگر اس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ کی تعمیر نو بھی ہے، تو پھر سوال ہوگا:
کیا Madison Square Garden ایک مذہبی اجتماع تھا یا RSS کی global public-relations campaign کا حصہ؟
یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بھی ہوسکتی ہیں۔
—
13. پاکستانی اردو پریس کی ایک خامی
پاکستانی اردو پریس نے بھاگوت کے پروگرام سے پہلے:
RSS؛
زہران ممدانی کی مخالفت؛
امریکی احتجاج؛
مذہبی آزادی کے سوال؛
اقلیتوں سے متعلق الزامات
کو جگہ دی۔
لیکن بھاگوت کے اصل خطاب کے بعد RSS کے تاریخی بیانیے کے ساتھ اس خطاب کا تقابلی تجزیہ بہت کم دکھائی دیتا ہے۔
یہ ایک بڑا editorial gap ہے۔
—
14. ہندوستانی مسلم اردو پریس کی بھی یہی کمزوری
ہندوستانی اردو پریس نے:
“مسلمانوں کو نکالنے والا ہندو نہیں”
کو بڑی سرخی بنایا۔
لیکن ایک investigative newspaper کو اس سے آگے جانا چاہیے:
> “یہ بیان RSS کے ماضی کے کن بیانات سے مطابقت رکھتا ہے اور کن سے متصادم؟”
یہ سوال اگر RSS کے اپنے primary documents سے حل کیا جائے تو اسٹوری بہت زیادہ طاقتور بن سکتی ہے۔
—
15. آپ کے سوال کا سیدھا جواب کیا کسی مسلم اخبار نے RSS کا اصل چہرہ بے نقاب کیا؟
ابھی تک مکمل طور پر نہیں۔
البتہ:
انقلاب نے بھاگوت کا بیان اور ہندوستانی سیاسی تنقید دونوں شائع کیے؛
ملت ٹائمز نے دورۂ امریکہ سے پہلے RSS کے خلاف امریکی مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے اعتراضات کو نمایاں کیا؛
Independent Urdu نے Reuters کے حوالے سے RSS کے عالمی امیج کے مسئلے کو رپورٹ کیا؛
ایکسپریس پاکستان نے زہران ممدانی کی مخالفت اور RSS کے نظریاتی پس منظر کو اجاگر کیا؛
جبکہ Islam Times Urdu نے کپل سبل کے “بیرونِ ملک دانش مندانہ باتیں، ملک میں خاموشی” والے سوال کو نمایاں کیا۔
لیکن کسی ایک مسلم اردو اخبار نے ابھی تک ان تمام ٹکڑوں کو جوڑ کر یہ مکمل investigative thesis نہیں بنایا کہ “Madison Square Garden speech = RSS’s global image rehabilitation”۔
اور یہی اس کہانی کا سب سے بڑا unexplored angle ہے۔
—
اصل تحقیق کہاں سے شروع ہونی چاہیے؟
ایک مضبوط مسلم investigative newspaper کو بھاگوت کے جملے کو نہ قبول کرنا چاہیے، نہ فوراً رد کرنا چاہیے۔
اسے چھ سوالوں کی ایک RSS Truth Test بنانی چاہیے:
1. RSS کا اصل نظریاتی لٹریچر کیا کہتا ہے؟
گولوالکر، ساورکر، RSS کے تاریخی resolutions اور موجودہ سرکاری/تنظیمی literature۔
2. “Hindu Rashtra” میں مسلمان کی آئینی حیثیت کیا ہے؟
3. کیا RSS نے کبھی واضح طور پر مسلمانوں کے برابر citizenship rights کی سیاسی ضمانت دی؟
4. RSS/BJP سے وابستہ مسلم outreach organisations کا کردار کیا ہے؟
5. کیا بھاگوت کا نیویارک بیان ہندوستان میں RSS کے عملی رویے سے مطابقت رکھتا ہے؟
6. اور سب سے اہم:
کیا 2026 میں RSS واقعی تبدیل ہوئی ہے، یا صرف دنیا کے سامنے اپنے اظہار کا انداز تبدیل کر رہی ہے؟
—
حتمی فیصلہ
Madison Square Garden میں بھاگوت نے RSS کو ایک نئے لفظی فریم میں پیش کیا:
Hinduism = human unity
Hindu Rashtra ≠ expulsion of Muslims
India = unity in diversity
Muslims = legitimate part of Bharat
یہ بیان بذاتِ خود اہم ہے اور اسے نظرانداز کرنا بھی صحافتی دیانت نہیں ہوگی۔
لیکن اسی طرح RSS کے ماضی، نظریاتی دستاویزات اور ہندوستانی سیاسی عمل کو نظرانداز کرکے صرف ایک خوبصورت نیویارک تقریر کو “RSS has become inclusive” قرار دینا بھی تحقیق نہیں ہوگی۔
اصل امتحان Madison Square Garden میں نہیں — ہندوستان میں ہوگا۔
اور شاید یہی وہ جملہ ہے جو مسلم اردو پریس کو اپنی اگلی سرخی بنانا چاہیے:
“بھاگوت نے نیویارک میں مسلمانوں کو ہندوستان کا حصہ مانا — اب RSS ہندوستان میں اس وعدے کو کیسے ثابت کرے گی؟”
اہم احتیاط: اوپر جہاں RSS یا اس کے ناقدین کے بارے میں الزامات کا ذکر ہے، انہیں میں نے الزام/تنقید کے طور پر رکھا ہے، ثابت شدہ عدالتی حقائق کے طور پر نہیں۔ یہی فرق ایک جذباتی مضمون اور ایک مضبوط investigative report کے درمیان ہوتا ہے۔
******** ( Contd…. )
