راہول اسرائیلی ایجنٹوں کو کالر سے پکڑا جا رہا ہے؟ راہول گاندھی کے الزامات، بھارت کی سلامتی پر بحث اور جوابدہی کا مطالبہ

اسرائیلی ایجنٹوں کو کالر سے پکڑا جا رہا ہے؟

راہول

گاندھی ک الزامات، بھارت کی سلامتی پر بحث اور جوابدہی کا مطالبہ

ایک تحقیقی تجزیہ

از: احمد سہیل صدیقی

بھارتی سیاست نے ایک اور ڈرامائی موڑ اس وقت دیکھا جب لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ سکیورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والے طلبہ اور کارکنان کے خلاف پیلٹ گنوں کا استعمال کیا۔ ان الزامات نے ہجوم پر قابو پانے کے طریقۂ کار، اسرائیل کے ساتھ بھارت کے دفاعی تعاون اور مرکزی حکومت کی جوابدہی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

راہول گاندھی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض طاقت کے حد سے زیادہ استعمال کا معاملہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک وسیع تر سکیورٹی نظریے کی عکاسی کرتا ہے جو، ان کے خیال میں، اسرائیل کی انسدادِ شورش اور انسدادِ بغاوت کی حکمتِ عملیوں سے بڑھتے ہوئے متاثر ہو رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھارتی سکیورٹی ایجنسیاں بھارتی قانون کے تحت مکمل طور پر آزادانہ طور پر کام کرتی ہیں۔

یہ متضاد مؤقف ایسے اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں جن کی غیر جانبدارانہ اور گہرائی سے تحقیق کی ضرورت ہے۔

پیلٹ گن کا تنازع

پیلٹ فائر کرنے والی شاٹ گنز ایک طویل عرصے سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید کا نشانہ رہی ہیں، کیونکہ ان سے آنکھوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور مستقل معذوری کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جموں و کشمیر میں ان کے استعمال پر خاص طور پر شدید تنازع رہا ہے۔

راہول گاندھی کی تنقید سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کے مطابق اب اسی نوعیت کے طریقے ملک کے دیگر حصوں میں بھی احتجاج کرنے والوں کے خلاف مبینہ طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو ناقدین کے مطابق یہ انتہائی متنازع پولیسنگ طریقوں کے دائرۂ استعمال میں توسیع ہوگی۔

تاہم، متعلقہ واقعے میں واقعی پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا تھا یا نہیں، اور اگر کیا گیا تو کس کے حکم پر کیا گیا، اس کی تصدیق صرف سرکاری ریکارڈ، طبی شواہد اور عدالتی تحقیقات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اسرائیل کے ساتھ بھارت کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات

  1. آج بھارت، اسرائیل کے اہم دفاعی شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم شعبے درج ذیل ہیں:
  2. فضائی دفاعی نظام
  3. نگرانی اور سرویلنس ٹیکنالوجی
  4. ڈرون
  5. انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ
  6. سرحدی انتظام کے آلات
  7. سائبر سکیورٹی

یہ دفاعی تعلقات مختلف ادوار میں، خواہ کانگریس کی قیادت والی حکومتیں ہوں یا بی جے پی کی، مسلسل فروغ پاتے رہے ہیں، اگرچہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں یہ تعلقات زیادہ نمایاں اور عوامی سطح پر زیادہ واضح دکھائی دینے لگے ہیں۔

تاہم، صرف دفاعی تعاون کا موجود ہونا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اسرائیلی حکام یا ایجنٹ بھارت کے اندرونی پولیس یا سکیورٹی آپریشنز کی قیادت کرتے ہیں۔

اسرائیلی اثر رسوخ سے متعلق الزامات

بعض سیاسی مبصرین اور سماجی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے سکیورٹی تعاون کے پیش نظر تربیت، دفاعی خریداری، نگرانی کی ٹیکنالوجی اور ہجوم پر قابو پانے کے طریقۂ کار میں زیادہ شفافیت ہونی چاہیے۔

تاہم، صرف دفاعی تعاون کا موجود ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اسرائیلی ایجنٹ دہلی میں موجود تھے یا انہوں نے پولیس کارروائی کی قیادت کی۔ اس نوعیت کے دعوے فی الحال الزامات کے دائرے میں آتے ہیں اور انہیں حقیقت کے طور پر قبول کرنے سے پہلے آزادانہ اور مضبوط شواہد درکار ہوں گے۔

خصوصی تحقیقی رپورٹ

پیلٹ گنوں سے غیر ملکی سکیورٹی اثر و رسوخ تک کے سوالات: راہول گاندھی نے امت شاہ سے جواب طلب کر لیا

لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے 20 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے خلاف کی گئی کارروائی کے تنازع کو مزید شدت دیتے ہوئے 25 جولائی 2026 کو مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا، جس میں انہوں نے پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر، ان کے الفاظ میں، “وحشیانہ حملے” کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

اس خط میں طلبہ کے خلاف پیلٹ گنوں، آنسو گیس اور طاقت کے استعمال کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سادہ لباس میں موجود ان نامعلوم افراد کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں جن پر مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔

ایک ایسا خط جس نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے

اپنے خط میں راہول گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ:

سکیورٹی فورسز نے طلبہ کے خلاف پیلٹ گنوں کا استعمال کیا۔

سینکڑوں مظاہرین شدید زخمی ہوئے۔

طالبات کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کیا گیا، جس میں ان کے جسم کے حساس حصوں کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی شامل ہیں۔

19 سالہ طالب علم ساحل لوچھب کی ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ مبینہ طور پر اسے پیلٹ لگے۔

سادہ لباس میں موجود بعض افراد کو طلبہ پر لاٹھیوں سے حملہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

راہول گاندھی نے وزیرِ داخلہ امت شاہ سے دو براہِ راست سوالات کیے:

1۔ کیا وزیرِ داخلہ کی حیثیت سے آپ نے طلبہ کے خلاف پیلٹ گنوں اور مہلک طاقت کے استعمال کی منظوری دی تھی؟ اگر نہیں، تو اس کی اجازت کس نے دی؟

2۔ طلبہ کو لاٹھیوں سے مارتے ہوئے نظر آنے والے سادہ لباس والے افراد کیا پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ ان کی تعیناتی کی منظوری کس نے دی؟

راہول گاندھی کے دستخط شدہ خط اور اس کے بعد سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے ذریعے یہ سوالات اب عوامی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔

پیلٹ گنوں پر بحث

پیلٹ گنیں ایک طویل عرصے سے تنازع کا موضوع رہی ہیں کیونکہ ان کے استعمال سے شدید اور مستقل نوعیت کی چوٹیں، خصوصاً بینائی سے محرومی، واقع ہو سکتی ہے۔ اگر دہلی میں ان کے استعمال کی آزادانہ تحقیقات کے ذریعے تصدیق ہوتی ہے تو یہ بھارت کی ہجوم پر قابو پانے کی پالیسی میں ایک اہم اور سنگین پیش رفت تصور کی جائے گی۔

حکومت نے اب تک راہول گاندھی کے خط میں لگائے گئے الزامات کو عوامی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، اور دہلی میں پیلٹ گنوں کے مبینہ استعمال کے حالات اب بھی تنازع کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔

غیر ملکی سکیورٹی اثر و رسوخ سے متعلق الزامات

بعض سیاسی مبصرین اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے سکیورٹی تعاون کے پیشِ نظر تربیت، دفاعی خریداری، انٹیلی جنس تعاون اور ہجوم پر قابو پانے کی پالیسیوں میں زیادہ شفافیت ہونی چاہیے۔

تاہم، دستیاب دستاویزات اس بات کو ثابت نہیں کرتیں کہ دہلی میں اسرائیلی ایجنٹ موجود تھے یا اسرائیل نے پولیس کارروائی کی قیادت کی تھی۔ اس نوعیت کے دعوے فی الحال الزامات کے زمرے میں آتے ہیں اور انہیں حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے سے قبل آزاد، معتبر اور مضبوط شواہد کی ضرورت ہوگی۔

آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

  1. ان سنگین الزامات—جن میں پیلٹ گنوں کے مبینہ استعمال، بڑی تعداد میں افراد کے زخمی ہونے اور سادہ لباس میں موجود افراد کے مبینہ کردار شامل ہیں—کے پیشِ نظر ایک آزادانہ تحقیقات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ درج ذیل ..
  2. کیا واقعی پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا تھا؟
  3. اگر کیا گیا، تو ان کے استعمال کی منظوری کس نے دی؟
  4. سادہ لباس میں موجود افراد کی شناخت کیا تھی اور انہیں کس اختیار کے تحت تعینات کیا گیا؟
  5. کیا پولیس اور سکیورٹی اداروں نے قانون اور مقررہ ضابطوں کی پابندی کی؟

صرف ایک شفاف عدالتی یا آزادانہ تحقیق ہی ان سوالات کے حقائق پر مبنی جواب دے سکتی ہے اور اگر کسی سطح پر قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داری کا تعین کر سکتی ہے۔

اختتامیہ

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کو راہول گاندھی کی جانب سے بھیجا گیا خط اب عوامی ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے اور اس نے ملک میں پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال، پیلٹ گنوں کے استعمال اور حکومتی جوابدہی کے حوالے سے ایک اہم سیاسی اور آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔

اس خط میں اٹھائے گئے سوالات کے جوابات صرف حقائق، سرکاری ریکارڈ، آزادانہ تحقیقات اور عدالتی جانچ کی بنیاد پر ہی دیے جا سکتے ہیں۔ کسی بھی جمہوری نظام میں شہریوں کے پُرامن احتجاج کے حق، قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں کی جوابدہی کو یقینی بنانا جمہوری اداروں کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔

— اختتام —

********

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Cart